نفوطیہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ( فافہم) لوگ یہ گمان کرنے لگے ہیں کہ اس آیت میں ( معاذ اللہ) اللہ عزوجل نے عتاب فرمایا ہے حالانکہ حضور ﷺ اس سے بری ہیں بلکہ حضور ﷺ کو اختیار دیا گیا تھا، پس جب حضور ﷺ نے ان کو اذن دے دیا تو اللہ عزوجل نے آپ ﷺ کو آگاہ کر دیا کہ اگر آپ ﷺ ان کو اذن نہ دیتے تو یقیناً یہ لوگ اپنے نفاق کی وجہ سے گھر میں ہی بیٹھے رہتے ، اس کے علاوہ اس بات کی بھی خبر دے دینا ہے کہ ان کو اذن دینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ (البتہ اگر اذن نہ دیتے تو نفاق علی الاعلان آشکارا ہو جاتا مترجم غفرلہ)<br /> فقیہ قاضی ( ’’ ابوالفضل عیاض‘‘ اللہ عزوجل ان کو توفیق دے) فرماتے ہیں کہ اس مسلمان پر جو اپنے نفس پر مجاہدہ کرتا ہے اور اس کے اخلاق (عادات) زمام شریعت کے تابع ہیں واجب ہے کہ قرآنی آداب سے اپنے قول و فعل، معاملات اور محاورات میں ادب سیکھے کیونکہ ادب ہی معرفت حقیقی کی کُنہ ہے اور ادب ہی دینی و دنیاوی گلدستہ ہے، اس بے مثال مہربانی پر خوب غور و فکر کرے، جو سوال میں اس رب الارباب ( مالک الملک اللہ عزوجل) جو کائنات پر بے شمار انعام کرتا ہے اور ہر ایک سے بے نیاز ہے کی جانب سے ہے اور ان فوائد کو حاصل کرنے کی کوشش کرے جو اس میں پنہاں ہیں اور سمجھے کہ کس طرح اظہار ناپسندیدگی (عتاب) سے پہلے لطف و کرم کے ساتھ کلام کی ابتدا فرماتا ہے، اگر یہاں بالفرض (معاذ اللہ) کوئی گناہ ہو بھی تو گناہ کے ذکر سے پہلے عفو بخشش کا ذکر کر کے محبت و انسیت کی باتیں کی ہیں۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے :<br /> ﴿وَ لَوْ لَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَیْهِمْ شَیْــٴًـا قَلِیْلًا﴾( اسراء:۷۴)<br />اور اگر ہم تمھیں ثابت قدم نہ رکھتے تو قریب تھا کہ تم ان کی طرف کچھ تھوڑا سا جھکتے۔<br /><br />کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ<br /> مختصر نام: الشفا شریف <br />مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ<br /> مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ<br /><br />#Shorts<br />#الشفا_شریف<br />#شان_مصطفیٰ<br />#اسلامی_تعلیمات <br />#ShanEMustafa<br />#IslamicShorts<br />#Islam<br />#Islamic<br />#ThinkGoodGreen
